چیمپیئنز کی سوچ کیسی ہوتیچیمپیئنز کی سوچ کیسی ہوتی ہے

0

چیمپیئنز کی سوچ کیسی ہوتیچیمپیئنز کی سوچ کیسی ہوتی ہے

دوسروں کے خلاف مقابلہ مشکل ضرورہے ۔لیکن آپ کا سب سے سخت مقابلہ اپنےآپ سے ہے۔

چا ہے کھیل ہو یا کاروبار ہم یقیناً اپنے شعبے میں بہترین بننا چاہتے ہیں ۔ شایداپنے شعبہ زندگی کا ایک چیمپیئن !

لیکن بہت سارے لوگ اپنے شعبے میں صرف اوسط درجے تک ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ بنیادی طور پر وہ اپنےآپ سے بہت کم کرسکنےکی توقع رکھتے ہیں اور اپنی کامیابی کا پیمانہ بھی چھوٹا ہی مقرر کرتے ہیں۔

کچھ غیر معمولی لوگ باقی لوگوں سے آگے نکل جاتے ہیں کیونکہ وہ آپ اپنے خوابوں کو اپنا مقصد بناتے ہیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیےنئےعملی مقاصدایجاد کرتے ہیں جو ان کو اپنی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔

اگر آپ اپنی لگن میں مخلص ہیں تو عملی مقاصد آپ کو اپنی منزل تک پہنچا دیتے ہیں

آپ اپنےعملی مقاصد کےاہداف کو کس طرح حاصل کرتے ہیں؟

آپ اپنےخواب کو ایک سیڑھی کی مانند دیکھنا شروع کریں۔ سیڑھی کا ہر قدم ایک دن، ایک چیلنج، ایک ممکنہ آؤٹ پٹ کی نمائندگی کرتا ہے جو آپ کو اپنے مطلوبہ ہدف کی طرف لے جاتا ہے۔

مثال کے طور پراگر آپ کا مقصد ایک سپورٹس ٹورنامنٹ جیتنا ہے تو آپ کا مقصد روزانہ بہت سی ٹرینینگ اور مشق ہو گا۔ایک کھلاڑی کے طور پر آپ چاہیں گےکہ آپ نئی تراکیب سکھیں یا کسی بہترین ماہر کو تلاش کریں یابہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی غذا کو بہتر کریں۔

اب آئیے ہم کہتے ہیں کہ آپ ایک سیلز پرسن ہیں اور آپ اس سال $150,000 کمیشن کمانا چاہتے ہیں۔ آپ اپنی کارکردگی کا ٹریک رکھنے کے لیے صبح دس بجے سے پہلے، 12 بجے، 2 بجےسے پہلےسیلز کا لز کا ایک ہدف مقرر کر سکتے ہیں۔

جب آپ اپنے لیے شروع ہی سے بلند مقاصد طے کر لیتے ہیں توآخر میں آپ ان سب لوگوں سےآگے نکل جاتے ہیں جنہوں نےاپنے لیے پست اہداف مقرر کر رکھے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں ! کبھی بھی اپنی صلاحیتوں پر حد مقرر نہ کریں۔آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں اگر آپ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں۔

منفی سوچ اورمنفی عمل آپ کو ہرا دیتے ہیں اور آپ کو بہترین بننے سے کوسوں دھکیل دیتے ہیں۔ مسکرائیے اورامید کا انتخاب کیجیئے۔

اگر آپ اخبار پڑھتے ہیں یا ٹیلی ویژن پر خبر دیکھتے ہیں توآپ روزمرّہ کے حالات اور اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوئےبغیر نہیں رہ سکتے۔

یہ بھی امکان ہے کہ آپ غیر ارادی طور پر منفی اثر قبول کر لیں اور نتیجے کے طور پر یہ سب کچھ آپ کو مایوس اور نا امید کر سکتا ہے۔

آپ کو شاید احساس نہ ہو، لیکن ایک منفی ماحول آپ کو اپنی حقیقی قابلیت تک پہنچنے سے روک سکتا ہے۔

یہ اس لیےبھی ہے کیونکہ ہم پہلے سے ہی دریافت شدہ راہنمائ اور دانش کو اپناکامیابی کا ذریعہ جان لیتےہیں اورشاذ و نادر ہی ناکامی اور ہمارےاردگرد لوگوں کی طرف سے ہونے والی تنقید کے خوف سےکچھ نیا کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔

1954 میں، مثال کے طور پر، ماہرین کے ایک گروپ کا خیال تھا کہ ایک شخص چار منٹ میں ایک میل کبھی طے نہیں کر سکتا ۔کیا یہ کوئ منفی سوچ تھی ؟ نہیں۔ بلکہ اس وقت تک کسی کھلاڑی نے ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔

اس کے باوجود Roger Bannister نامی ایک اتھلیٹ نے محنت اور استقامت کے ساتھ یہ ریکارڈ توڑا ۔یوں اس نے دوسرے کھلاڑیوں کے لیے بنیادڈالی کہ وہ اس کے اپنے ریکارڈ کو توڑیں اور دنیا کو دکھایا کہ اگر آپ کا ارادہ پختہ ہو تو ناممکن ، ممکن ہو سکتا ہے!

بہت سے کھلاڑیوں نے Roger Bannister کی مثال کی پیروی کی اور کامیابی کے ساتھ چار منٹ میں ایک میل کے ریکارڈ کو عبور کیا۔

جہاں امید اور کامیابی کے درمیان کوئی مکمل تعلق موجود نہیں ، وہاں قنوطیت اور ناکامی کے درمیان تقریبا ایک کامل تعلق موجود ہے ۔

تو اپنے لیے امید کا انتخاب کریں ۔ اور اس کے لیے آپ نے صرف منفی رویہ ہی کھونا ہے!

امید تھوڑاایمان کی طرح ہی ہے ۔ یہ ایسی چیز نہیں ہےکہ جس کا کوئ ثبوت ہو بلکہ یہ ایک احساس ہے جو آپ اپنےآپ کو مشکل وقت سے نکالنے کے لئے تخلیق کرتے ہیں۔

ایک سادہ چال جو آپ دباؤ کے لمحات میں استعمال کر سکتے ہیں وہ مسکراہٹ ہے. جب آپ مسکراتےہیں تو آپ اپنےدماغ کوبتارہے ہوتے ہیں کہ آپ خوش، آرام دہ اور پرسکون ہیں اوراپنی تمام قوت اپنےمقصد پر لگانے کے لیے تیار ہیں ۔

اعتماد کامیابی کا راز ہے ۔ آپ اعتماد کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے ہر روز اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے !

ہم اکثر فرض کر لیتے ہیں کہ اعتمادکامیابی اور جیت کے ساتھ آتا ہے، لیکن اگر یہ سچ ہے تو پہلی بارکامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی تھی؟

اعتماد امید کی طرح آپ کااپنا انتخاب ہے۔ اگر آپ اپنے مقاصد کو سامنے رکھیں اور اپنے چھوٹی اور بڑی سب کامیابیوں کا ریکارڈ برقرار رکھیں اور محنت اور مشق کرتے رہیں تو آپ اپنے اعتماد کی تعمیر شروع کر سکتے ہیں جو آپ کوکامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے ایندھن کا کام کرے گا۔

یاد رکھیں: اپنے مقصد کےحصول کے لئے سفر اور مشقت ،آپ کےمقصد سے زیادہ اہم ہے!

پیشہ ورانہ باسکٹ بال کے کھلاڑی LeBron James آج کے ایک سپر سٹار سے پہلے ایک اناڑی تھے۔ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نےایک مصنف سے مشورہ مانگا۔ جس نے مشورہ دیا کہ روزانہ 400 مختلف شاٹس تین نقطوں پر مارنے کی مشق کریں۔

بار بار دہرانے اور لگاتار مشق کی وجہ سے LeBron James گیند کو آسانی اور بغیر کسی مشقت کے جال میں ڈال دیتے تھے۔

LeBron James نے نہ صرف اپنے کھیل کو بہتر کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ دنیا میں سب سے بہترین باسکٹ بال کھلاڑی بننے کے لیے قدرتی صلاحیت ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے پریکٹس اور محنت بھی لازمی ہے۔

امریکی فٹ بال کوچ ونسنٹ لومباریک بار کہا تھا، “جیت سب کچھ نہیں ہے ۔ یہ صرف ایک ہی چیز ہے ۔

کس طرح آپ یہ بیان تشریح آپ اپنی زندگی گزارنے کا طریقہ کا تعین کرے گا ۔ اگر ایک چیمپیئن بننا چاہتے ہیں تو آپ کو صرف منانے اور مثبت تجربات – یاد کر کے منفی جنہیں چھوڑ کے لیے سبق سیکھنا چاہیے ۔

اسکول، ہم ہماری غلطیوں کو بہتر بنانے کے لیے ریواساٹ کرنے کی تربیت کر رہے ہیں لیکن ایسا کرنے سے ہم ہماری صحیح جوابات لے یا کے لئے اچھی پرفارمنس دی ۔

نہیں اپنے ناکامیاں یا نقصان، پر سکونت لیکن اپنی کامیابیوں پر نظر اور ان کی تخلیقات ہیں ۔ جہاں آپ میں ہیں کو دیکھ کر جہاں آپ ابھی تک جانے کے لئے چاہتے ہیں کی شبیہ کو متصور ہے ۔

دوسروں کے خلاف مقابلہ مشکل ضرورہے ۔لیکن آپ کا سب سے سخت مقابلہ اپنےآپ سے ہے۔

چا ہے کھیل ہو یا کاروبار ہم یقیناً اپنے شعبے میں بہترین بننا چاہتے ہیں ۔ شایداپنے شعبہ زندگی کا ایک چیمپیئن !

لیکن بہت سارے لوگ اپنے شعبے میں صرف اوسط درجے تک ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ بنیادی طور پر وہ اپنےآپ سے بہت کم کرسکنےکی توقع رکھتے ہیں اور اپنی کامیابی کا پیمانہ بھی چھوٹا ہی مقرر کرتے ہیں۔

کچھ غیر معمولی لوگ باقی لوگوں سے آگے نکل جاتے ہیں کیونکہ وہ آپ اپنے خوابوں کو اپنا مقصد بناتے ہیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیےنئےعملی مقاصدایجاد کرتے ہیں جو ان کو اپنی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔

اگر آپ اپنی لگن میں مخلص ہیں تو عملی مقاصد آپ کو اپنی منزل تک پہنچا دیتے ہیں

آپ اپنےعملی مقاصد کےاہداف کو کس طرح حاصل کرتے ہیں؟

آپ اپنےخواب کو ایک سیڑھی کی مانند دیکھنا شروع کریں۔ سیڑھی کا ہر قدم ایک دن، ایک چیلنج، ایک ممکنہ آؤٹ پٹ کی نمائندگی کرتا ہے جو آپ کو اپنے مطلوبہ ہدف کی طرف لے جاتا ہے۔

مثال کے طور پراگر آپ کا مقصد ایک سپورٹس ٹورنامنٹ جیتنا ہے تو آپ کا مقصد روزانہ بہت سی ٹرینینگ اور مشق ہو گا۔ایک کھلاڑی کے طور پر آپ چاہیں گےکہ آپ نئی تراکیب سکھیں یا کسی بہترین ماہر کو تلاش کریں یابہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی غذا کو بہتر کریں۔

اب آئیے ہم کہتے ہیں کہ آپ ایک سیلز پرسن ہیں اور آپ اس سال $150,000 کمیشن کمانا چاہتے ہیں۔ آپ اپنی کارکردگی کا ٹریک رکھنے کے لیے صبح دس بجے سے پہلے، 12 بجے، 2 بجےسے پہلےسیلز کا لز کا ایک ہدف مقرر کر سکتے ہیں۔

جب آپ اپنے لیے شروع ہی سے بلند مقاصد طے کر لیتے ہیں توآخر میں آپ ان سب لوگوں سےآگے نکل جاتے ہیں جنہوں نےاپنے لیے پست اہداف مقرر کر رکھے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں ! کبھی بھی اپنی صلاحیتوں پر حد مقرر نہ کریں۔آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں اگر آپ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں۔

منفی سوچ اورمنفی عمل آپ کو ہرا دیتے ہیں اور آپ کو بہترین بننے سے کوسوں دھکیل دیتے ہیں۔ مسکرائیے اورامید کا انتخاب کیجیئے۔

اگر آپ اخبار پڑھتے ہیں یا ٹیلی ویژن پر خبر دیکھتے ہیں توآپ روزمرّہ کے حالات اور اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوئےبغیر نہیں رہ سکتے۔

یہ بھی امکان ہے کہ آپ غیر ارادی طور پر منفی اثر قبول کر لیں اور نتیجے کے طور پر یہ سب کچھ آپ کو مایوس اور نا امید کر سکتا ہے۔

آپ کو شاید احساس نہ ہو، لیکن ایک منفی ماحول آپ کو اپنی حقیقی قابلیت تک پہنچنے سے روک سکتا ہے۔

یہ اس لیےبھی ہے کیونکہ ہم پہلے سے ہی دریافت شدہ راہنمائ اور دانش کو اپناکامیابی کا ذریعہ جان لیتےہیں اورشاذ و نادر ہی ناکامی اور ہمارےاردگرد لوگوں کی طرف سے ہونے والی تنقید کے خوف سےکچھ نیا کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔

1954 میں، مثال کے طور پر، ماہرین کے ایک گروپ کا خیال تھا کہ ایک شخص چار منٹ میں ایک میل کبھی طے نہیں کر سکتا ۔کیا یہ کوئ منفی سوچ تھی ؟ نہیں۔ بلکہ اس وقت تک کسی کھلاڑی نے ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔

اس کے باوجود Roger Bannister نامی ایک اتھلیٹ نے محنت اور استقامت کے ساتھ یہ ریکارڈ توڑا ۔یوں اس نے دوسرے کھلاڑیوں کے لیے بنیادڈالی کہ وہ اس کے اپنے ریکارڈ کو توڑیں اور دنیا کو دکھایا کہ اگر آپ کا ارادہ پختہ ہو تو ناممکن ، ممکن ہو سکتا ہے!

بہت سے کھلاڑیوں نے Roger Bannister کی مثال کی پیروی کی اور کامیابی کے ساتھ چار منٹ میں ایک میل کے ریکارڈ کو عبور کیا۔

جہاں امید اور کامیابی کے درمیان کوئی مکمل تعلق موجود نہیں ، وہاں قنوطیت اور ناکامی کے درمیان تقریبا ایک کامل تعلق موجود ہے ۔

تو اپنے لیے امید کا انتخاب کریں ۔ اور اس کے لیے آپ نے صرف منفی رویہ ہی کھونا ہے!

امید تھوڑاایمان کی طرح ہی ہے ۔ یہ ایسی چیز نہیں ہےکہ جس کا کوئ ثبوت ہو بلکہ یہ ایک احساس ہے جو آپ اپنےآپ کو مشکل وقت سے نکالنے کے لئے تخلیق کرتے ہیں۔

ایک سادہ چال جو آپ دباؤ کے لمحات میں استعمال کر سکتے ہیں وہ مسکراہٹ ہے. جب آپ مسکراتےہیں تو آپ اپنےدماغ کوبتارہے ہوتے ہیں کہ آپ خوش، آرام دہ اور پرسکون ہیں اوراپنی تمام قوت اپنےمقصد پر لگانے کے لیے تیار ہیں ۔

اعتماد کامیابی کا راز ہے ۔ آپ اعتماد کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے ہر روز اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے !

ہم اکثر فرض کر لیتے ہیں کہ اعتمادکامیابی اور جیت کے ساتھ آتا ہے، لیکن اگر یہ سچ ہے تو پہلی بارکامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی تھی؟

اعتماد امید کی طرح آپ کااپنا انتخاب ہے۔ اگر آپ اپنے مقاصد کو سامنے رکھیں اور اپنے چھوٹی اور بڑی سب کامیابیوں کا ریکارڈ برقرار رکھیں اور محنت اور مشق کرتے رہیں تو آپ اپنے اعتماد کی تعمیر شروع کر سکتے ہیں جو آپ کوکامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے ایندھن کا کام کرے گا۔

یاد رکھیں: اپنے مقصد کےحصول کے لئے سفر اور مشقت ،آپ کےمقصد سے زیادہ اہم ہے!

پیشہ ورانہ باسکٹ بال کے کھلاڑی LeBron James آج کے ایک سپر سٹار سے پہلے ایک اناڑی تھے۔ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نےایک مصنف سے مشورہ مانگا۔ جس نے مشورہ دیا کہ روزانہ 400 مختلف شاٹس تین نقطوں پر مارنے کی مشق کریں۔

بار بار دہرانے اور لگاتار مشق کی وجہ سے LeBron James گیند کو آسانی اور بغیر کسی مشقت کے جال میں ڈال دیتے تھے۔

LeBron James نے نہ صرف اپنے کھیل کو بہتر کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ دنیا میں سب سے بہترین باسکٹ بال کھلاڑی بننے کے لیے قدرتی صلاحیت ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے پریکٹس اور محنت بھی لازمی ہے۔

امریکی فٹ بال کوچ ونسنٹ لومباریک بار کہا تھا، “جیت سب کچھ نہیں ہے ۔ یہ صرف ایک ہی چیز ہے ۔

کس طرح آپ یہ بیان تشریح آپ اپنی زندگی گزارنے کا طریقہ کا تعین کرے گا ۔ اگر ایک چیمپیئن بننا چاہتے ہیں تو آپ کو صرف منانے اور مثبت تجربات – یاد کر کے منفی جنہیں چھوڑ کے لیے سبق سیکھنا چاہیے ۔

اسکول، ہم ہماری غلطیوں کو بہتر بنانے کے لیے ریواساٹ کرنے کی تربیت کر رہے ہیں لیکن ایسا کرنے سے ہم ہماری صحیح جوابات لے یا کے لئے اچھی پرفارمنس دی ۔

نہیں اپنے ناکامیاں یا نقصان، پر سکونت لیکن اپنی کامیابیوں پر نظر اور ان کی تخلیقات ہیں ۔ جہاں آپ میں ہیں کو دیکھ کر جہاں آپ ابھی تک جانے کے لئے چاہتے ہیں کی شبیہ کو متصور ہے ۔

Hello world!

1

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!